12 مئی 2014 - 13:54
امریکہ ایران اور پاکستان کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتا ہے/ تکفیری گروہ شیعہ سنی سب کے لیے بڑا خطرہ

رہبرانقلاب اسلامی نے تکفیری گروہوں کو تمام مسلمانوں کے لئے خواہ شیعہ ہوں یا اہل سنت خطرہ قرار دیتے ہوئے فرمایا اگر تکفیری گروہوں کا مقابلہ نہ کیا گيا تو وہ عالم اسلام کو مزید نقصان پہنچائيں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے وفد کے ہمراہ آج رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس موقع پر رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ تہذیبی اور دینی اشتراکات ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان اچھے اور دوستانہ تعلقات کا اہم ترین سبب ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون میں کمی آنے پر گلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کچھ حلقے مختلف طریقوں بالخصوص دونوں ملکوں کی طویل مشترکہ سرحد پر بدامنی پھیلا کر ایران اور پاکستان کے دوست عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس بات کا موقع نہیں دینا چاہیے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کا سنہری موقع ہاتھ سے نکل جائے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں توسیع کی ضرورت نیز گيس پائپ لائن سمیت بڑے اقتصادی منصوبوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نواز شریف کے دور میں دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی اچھی کوششیں کی جائيں گي۔

آپ نے فرمایا کہ تہران اسلام آباد کے مابین تعلقات میں فروغ لانے کے لئے کسی کی اجازت کا منتظر نہیں رہنا چاہیے اور امریکہ جس کی خباثت سب پر عیاں ہے ان حکومتوں میں شامل ہے جو ایران اور پاکستان کے درمیان فاصلے پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی نے ایران پاکستان مشترکہ سرحدوں پر بدامنی کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حالیہ مہینوں میں بعض حلقوں نے جان بوجھ کر ایران پاکستان کی مشترکہ سرحدوں پر بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ یہ واقعات اتفاقیہ اور غیر عمدی تھے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے تکفیری گروہوں کو تمام مسلمانوں کے لئے خواہ شیعہ ہوں یا اہل سنت خطرہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا اگر تکفیری گروہوں کا مقابلہ نہ کیا گيا تو وہ عالم اسلام کو مزید نقصان پہنچائيں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

لیبلز